تجھے دیکھ سکوں
Poet: Nasir Ali By: Nasir Ali, Islamabadنہ جانے کون سی وہ حسیں رات ہو گی
جب تو میرے خواب میں ہو اور میں تجھے دیکھ سکوں
اب تو عمر ہو چلی ہے یہ انتظار کرتے کرتے
کہ میں پھر سے تیرا جلوہ تکوں اورتجھے دیکھ سکوں
اپنی سانسوں میں ٹیری مہک محسوس کر سکتا ہوں
اب تو آ جا کہ تجھے یاد کروں اور تجھے دیکھ سکوں
تیری یاد میں اک اک پل جو گزارا تھا میں نے
اس وقت کی قسم دے کے کہوں اور تجھے دیکھ سکوں
دم آخر تک اب تو یہی تمنا ہے ناصر کی
کہ ہر روز تیرا دیدار کروں اور تجھے دیکھ سکوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






