تجھے کھونے سے ڈرتی ہوں
Poet: Rukhsana Kausar By: Rukhsana Kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratمیں ا ب سونے سے ڈرتی ہوں
تجھے کھونے سے ڈرتی ہوں
میرے دلبر ، میرے جانا ں
مجھے فقط اتنا بتلاؤ
کیوں اتنا تڑپاتے ہو
بہت ہی یاد آتے ہو
مجھے تم یوں ستاتے ہو
میں کہ دلبراں تیری ۔۔تو دلبر میرا
میں تجھ سے جدا ہونے سے ڈرتی ہوں
تجھے کھونے سے ڈرتی ہوں
کہ جب بھی چاند چمکتا ہے
میرے دامن، میرے پہلو میں تو آن مہکتا ہے
تیری یادیں تیری باتیں بہت بے چین کرتی ہیں
میں تنہا تو نہیں ہوتی
تنہا سونے سے ڈرتی ہو ں
تجھے کھونے سے ڈرتی ہوں
میری آنکھوں کے مندر میں ۔۔تو دیوتا سا ہے
میری آنکھو ں کے موتی نہ بکھر جا ئیں
میں رونے سے ڈرتی ہوں
تجھے کھونے سے ڈرتی ہوں
میں اب سونے سے ڈرتی ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






