تجھے کیا معلوم ترے دیوانے کتنے ہیں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaتجھے کیا معلوم ترے دیوانے کتنے ہیں
اے شمعِ حُسن ترے پروانے کتنے ہیں
جو جل جانے کو تیار ہیں مچلتے ہوئے
ایسے پروانے تُو کیا جانے کتنے ہیں
شاعر میں بنا ہوں ترا طلبگار بن کے
میرے گیتوں میں ترے نام کے ترانے کتنے ہیں
کنارے سے پتہ نہیں چلتا کچھ میرے دوست
سمندر کی گہرائی اِس میں خزانے کتنے ہیں
مشکل میں یہ راز کُھل ہی جاتے ہیں
اپنے کتنے ہیں اور بیگانے کتنے ہیں
پڑھوں کبھی میری کتابِ عشق بیٹھ کے
پتہ چلے تمکو محبت کے افسانے کتنے ہیں
کیوں ناز کرتے ہو تم نئے دوستوں پے
دیکھوں میری جانب میرے ساتھ پرانے کتنے ہیں
دوچار سانسیں جی لو سنگ نہال کے آج
کیا بھروسہ دم کا دم آنے کتنے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






