تجھ بن اب میرا گزارا تو نہیں ہو سکتا
Poet: عثمان حبیب By: Muhammad Usman Habib, Sadiqabadتجھ بن اب میرا گزارا تو نہیں ہو سکتا
زیست کا اور سہارا تو نہیں ہو سکتا
تم جو چاہو تو بھلا دو، یہ مگر دھیان رہے
جو یقیں ٹوٹا، دوبارا تو نہیں ہو سکتا
زر پرستی کا تو عالم ہے کہ اب دیکھیے خود
وفا لیے ہی۔۔۔ گزارا تو نہیں ہو سکتا
ابھی سے حوصلہ ہارے ہوئے بیٹھے ہو میاں
کوئی فرہاد یوں ہارا تو نہیں ہو سکتا
دُور مجھ سے مجھے کر ڈالا تیرے شکوؤں نے
معتبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اور خسارا تو نہیں ہو سکتا
اختلاف آپ تو کر سکتے ہیں سو بار مگر
حقیقت سے یوں کنارا تو نہیں ہو سکتا
عالمِ ہجر میں دیکھو تو سہی وہ انا پرست
ڈوب سکتا ہے ابھارا تو نہیں ہو سکتا
میں ہی تو پہلی محبت ہوں دراصل اُس کی
کوئی اُسے، مجھ سے پیارا تو نہیں ہو سکتا
چلتے چلتے تیری راہوں کی طرف ابنِ حبیب
ہے یہ مہتاب، کوئی ستارا تو نہیں ہو سکتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






