تجھ بن مری حیات میں اب کیا ہے کچھ نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتجھ بن مری حیات میں اب کیا ہے کچھ نہیں
دنیا کے حسن و خواب میں اب کیا ہے کچھ نہیں
کچے گھڑے پہ تیر کے دیکھا ہے کتنی بار
آنکھوں کے اس چناب میں اب کیا ہے کچھ نہیں
غم کی کھلی فضاؤں میں برباد ہو چکی
اس زیست کے سراب میں اب کیا ہے کچھ نہیں
میری فصیلِ لب سے گویا دھوپ ڈھل گئی
اس آتشی گلاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں
بکھری جو مہک پھول کی گلشن سے اڑ گئی
ہجرت جو کر رہی ہیں یہ گلشن سے تتلیاں
موسم کے اس شباب میں اب کیا ہے کچھ نہیں
عمر رواں میں ڈھل گئی چاہت کی دلکشی
چہرے کے ماہتاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں
چلتے ہیں تیرے پیار کی سنگت یہ چھوڑ کر
وشمہ ترے خطاب میں اب کیا ہے کچھ نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






