تجھ سے بچھڑ کے سمت سفر بھولنے لگے

Poet: حسن عباس رضا By: rehan, Sargodha

تجھ سے بچھڑ کے سمت سفر بھولنے لگے
پھر یوں ہوا ہم اپنا ہی گھر بھولنے لگے

قربت کے موسموں کی ادا یاد رہ گئی
گزری رفاقتوں کا اثر بھولنے لگے

ازبر ہیں یوں تو کوچۂ جاناں کے سب نشاں
لیکن ہم اس کی راہ گزر بھولنے لگے

پہنچے تھے ہم بھی شہر طلسمات میں مگر
وہ اسم جس سے کھلنا تھا در بھولنے لگے

ہم گوشہ گیر بھی تھے کسی مہر کی مثال
اوجھل ہوئے ادھر تو ادھر بھولنے لگے

جان حسنؔ اب اس سے زیادہ میں کیا کہوں
مر جاؤں تیری یاد اگر بھولنے لگے

Rate it:
Views: 668
16 Sep, 2021
More Sad Poetry