تجھ سے ملنے کا وعدہ نبھانا ہی پڑے گا
Poet: Asadullah By: Asadullah abbasi, islamabadتجھ سے ملنے کا وعدہ نبھانا ہی پڑے گا
تجھے اپنی باہوں میں سمانا ہی پڑے گا
تیری چاہت کا انداز کچھ عجب تھا
اس کا جواب تو دینا ہی پڑے گا
اکثر روٹھ جاتے ہو تم ہم سے
دل سے مجبور ہو کر تمہیں منانا ہی پڑے گا
ہم اکثر تم سے سوال کریں گے
تمہیں ہر حال میں جواب دینا ہی پڑے گا
محبت بھی کتنی عجب چیز ہے
جسے چاہا اسے ہر حال میں پانا ہی پڑے گا
تیری الفت کا جواب میں کسے دوں
یہ تو تم سے ہی پوچھنا پڑے گا
عشق کرنا اتنا آسان نہیں ا ے ناداں
تمہیں ہر حال میں اس آگ میں جلنا پڑے گا
اب وقت آ گیا ہے صنم
تمہیں اقرار محبت کرنا ہی پڑے گا
کیا معلوم کب منہ مور تو تم ہم سے
تمہیں اک عہد نبھانا ہی پڑے گا
زندگی بھر ساتھ نبھان گا تیرا یہ سوچ لینا
تمہیں ہر حال میں میراساتھ دینا پڑے گا
اس دنیا کا کیا بھروسہ اسد
تمہیں ہر وقت میرے ساتھ ساتھ چلنا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






