تجھ سے ملوں تو ساری فضا شبنمی لگے
Poet: کلثوم انور By: وشمہ خان وشمہ, pakistanتجھ سے ملوں تو ساری فضا شبنمی لگے
خوشبو ، بہار ، رنگ ، محبت ، نئی لگے
پژمردگی سی روح پہ چھانے لگی ہے دوست
ملتے رہا کرو کہ حسیں زندگی لگے
ٹالی نہیں گئی ہے تمہاری کوئی بھی بات
اپنی خوشی سے بڑھ کے تمہاری خوشی لگے
رک رک کے چل رہی ہیں ہوائیں بھی سانس بھی
یوں ہے کہ تو نہیں ہے تو دھڑکن تھمی لگے
خود سے بچھڑ گئے ہیں تمہاری تلاش میں
اور یوں کہ اپنا آپ ہمیں اجنبی لگے
یہ جو نہیں رہی ہے زمانے کی کچھ خبر
دل میں کسی کی یاد کی محفل سجی لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






