تحریر کر رہی ہوں دیبابچہ حیات میں لفظوں کے گلاب سارے
Poet: Maria Rehmani By: Maria Rehmani, Kharianتحریر کر رہی ہوں دیبابچہ حیات میں لفظوں کے گلاب سارے
کھل جائیں گے تجھ پہ بھی باب سارے وہ نصاب سارے
گماں کے پنچھی اڑیں گے جب تیرے خیال کی منڈیر پر
جاگتی آنکھوں میں پھریں گے در بدر وہ خواب سارے
میں ہی نہ تھی اپنی زندگی کے دلچسپ امتحان میں
اس کے تھے سوال سارے اسی کے تھے جواب سارے
مجھ سائل محبت کو یوں مجروح نہ کر کہ اک دن
تیرے دل کی مسند پہ بیٹھ کر لوں گی حساب سارے
کچھ پہلے ہی پر خاش تھی ان کو ہماری شدتوں سے
اور ہم بھی بھول گئے دیکھ کر ان کو آداب سارے
راہ گیر ہے کوئی آوارہ سا مسافتوں کی گرد سے اٹا ہوا
چلتے چلتے لٹ گیا تو جان جائے گا راہوں کے سراب سارے
تجھے بھولنے کی خاطر میں بھٹک گیا جہاں جہاں جانے کہاں کہاں
وہ گلی گلی وہ شہر شہر تھے ہجر کے زیر آب سارے
لپٹ جائیں گی گفتگو سے وہ تنہا تنہا سی خاموشیاں
دل میں اتریں گے جو آگہی کے عذاب سارے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






