تختِ طاؤس ، مرا تخت ہزارہ تم ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاتختِ طاؤس ، مرا تخت ہزارہ تم ہو
میرے شہزادے مری آنکھ کا تارا تم ہو
میں ترے عشق میں لیلی تو کبھی ہیر بنی
تم ہو مجنوں یا ہو فرہاد ،گوارہ تم ہو
میں نے کاٹی ہے ترے پیار میں یہ عمررواں
جس کے خوابوں میں سدا وقت گزارا تم ہو
زیست تو تیری امانت تھی ترے ساتھ رہی
اوپھر کھیل سمجھ کر جسے ہارا تم ہو
جس کی آغوش میں میرا ہے سفینہ وشمہ
اس سمندر کا مری جان کنارہ تم ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






