ترانہ ایلاف لائیسم
Poet: سید بدیع الرحمٰن By: سید بدیع الرحمٰن, Skarduیہ ادارہ ہے، ایک تارا ہے ، جھومے بولے دل کیا نظارہ ہے
جھگا نے دیکھا ہے ، سب نے سمجھا ہے، اے ایلاف تجھ سا کون اچھا ہے
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
زندہ باد زندہ باد ، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہاتھوں میں ڈالے ہاتھ چلے، راہ جیسے بھی ہوں ہم نہ رکے
اوروں کے آگے سر نہ جھکے، استاد کی عزت کرتے رہے
ہے اللہ کا احسان، ایلاف زندہ باد
ہے اللہ کا احسان، ایلاف زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
زندہ باد زندہ باد ، ایلاف لائیسم زندہ باد
مانند ستارہ ہر بچہ، میدان عمل میں چمکے رہے
ہے آنے والا دور حسیں، محنت اور خدمت کرتے رہے
ہے ہم سب کا اپہچان، ایلاف زندہ باد
ہے ہم سب کا اپہچان، ایلاف زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
زندہ باد زندہ باد ، ایلاف لائیسم زندہ باد
جھولے آسمانوں کو، شہباز ہواؤں کا بن کے
سر کرتا ہے کے ٹوکو ، کوہ پیما سا بن کے
ہے شاہد کا فرمان، ایلاف زندہ باد
ہے شاہد کا فرمان، ایلاف زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
زندہ باد زندہ باد ، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہم اونچے جزبے رکھتے ہے، سیاجن کے رکھوالے بن کے
ہم دنیا کو دکھائیں گے، ایلاف کا شہزادہ بن کے
ہے بدیع کا ایماں ، ایلاف زندہ باد
ہے بدیع کا ایماں ، ایلاف زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
ہربلتستانی کہتا ہے، ایلاف لائیسم زندہ باد
زندہ باد زندہ باد ، ایلاف لائیسم زندہ باد
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






