ترا خیال کریں ایسے اُستوار آنکھیں
Poet: Aisha Baig Aashi By: Aisha Baig Aashi, karachiترا خیال کریں ایسے اُستوار آنکھیں
فضا میں رقص کیے جائیں بے قرار آنکھیں
از اتفاق ملا لمسِ جاں کا جو لمحہ!
اُسی کو سوچتی رہتی ہیں بار بار آنکھیں
یہ تارِ نُورِ نظر ہے تجھی سے وابستہ
تری نظر پہ ہی کرتی ہیں انحصار آنکھیں
ترے سِوا نہ شبِیہ اور دیکھتیں کوائی
مکینِ فکر جو ہوتیں خود اختیار آنکھیں
بھروسہ کرتی نہیں ہیں کسی پہ دنیا میں
جہاں میں کرتی ہیں بس تجھ پہ انحصار آنکھیں
غزل غزل میں محبت کی روشنی بھر دیں
ہر ایک شعر کی جاں تیری حرف زار آنکھیں
ہے یاد عاشی وہ پل پہلی بار ملنے کا
ٹھہر گئیں مرے چہرے پہ بن کے پیار آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






