ترک تعلق
Poet: Yaseen Shahi By: Yaseen Shahi, Islamabadترک تعلق
تم ہی بتاؤ جاناں
کیا یوں ترک تعلق ہو جاتا ہے
ذہن و دل کو صرف انا کے ہاتھوں گروی رکھ دینے سے
خود کو اپنے کمرے میں بند کر لینے سے
بستر پہ اوندھے منہ لیٹے
بین کریں جب یادیں
رشتوں کی میت پہ رو لینے سے
تم ہی بتاؤ جاناں
کیا یوں ترک تعلق ہو جاتا ہے
آنکھوں کے چوگردی حلقے
سارے راز اگل دیتے ہیں
ساری خوشیوں کےسپنے
اپنے اپنے رستے لیتے ہیں
ترک تعلق
ایسےتھوڑی ہو جاتا ہے
وصل کے لمحے
ہجر کے برسوں کو لوٹانے پڑتے ہیں
اور خوشیوں کے لے پالک بچے
وحشی غم کے پنجوں میں دینے پڑتے ہیں
نام وفا پہ
جتنی جھوٹی قسمیں کھائیں
ان کا بھی کفارہ دینا پڑتا ہے
بس خط واپس کر دینے سے
یا تحفے واپس کردینے سے
تم ہی بتاؤ جاناں
کیا یوں ترک تعلق ہو جاتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







