تری آواز پر رکے ہی نہیں
Poet: بابر علی اسد By: مصدق رفیق, Karachiتری آواز پر رکے ہی نہیں
سو کئی واقعے ہوئے ہی نہیں
اس نے جتنے دئے میں لے آیا
مفت کے سانس تھے گنے ہی نہیں
معجزے وقت پر نہیں ہوتے
سانحے وقت دیکھتے ہی نہیں
جھوٹ ہے دل بدر کئے گئے ہیں
سچ کہیں ہم وہاں پہ تھے ہی نہیں
سب حقیقت پسند ہو گئے ہیں
لوگ اب خواب دیکھتے ہی نہیں
جو ترے نام میں نہیں آتے
ایسے حرفوں کو جانتے ہی نہیں
رس رہے ہیں جگہ جگہ سے اسدؔ
اس نے کچھ زخم تو سیے ہی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






