تری محفل سے جو اٹھ جائیں گے مہر و وفا والے
Poet: بدیع الزماں سحر By: مصدق رفیق, Karachiتری محفل سے جو اٹھ جائیں گے مہر و وفا والے
تو پوچھے گا تجھے پھر کون اے جور و جفا والے
نگاہ یار اتنی سی عنایت ہم پہ ہو جاتی
کہ دنیا یہ سمجھ لیتی کہ ہم بھی ہیں خدا والے
ہماری قدر کر پیر مغاں کہ واسطے جن کے
لئے پھرتے ہیں جام ارغوانی میکدہ والے
یہ بیڑا ہے جنوں کا کب رکا باد مخالف سے
نیا طوفان لائیں ڈھونڈ ڈھونڈھ کر بلا والے
دیے جلتے نہ پلکوں پر نہ بزم آرزو سجتی
بڑا احسان دل پر ہے ترا جود و سخا والے
تجھے اپنوں نے چھوڑا اور غیروں نے ہے اپنایا
مبارک ہو تجھے نقل مکانی مصطفیٰ والے
غزل کہتے نہ تجھ پر تو بھلا کس کو پتا چلتا
یہ چہرہ چودھویں کا چاند ہے گیسو گھٹا والے
تخلص ہے سحرؔ دل کی گلی شہر محبت ہے
چلے آؤ بہت آسان سے ہیں ہم پتا والے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






