کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتے
Poet: بدیع الزماں سحر By: مصدق رفیق, Karachiکسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتے
مکین دل مکاں کو اس طرح ڈھایا نہیں کرتے
تم اپنے آنسوؤں کو روک لیتے اپنی پلکوں پر
کسی کا راز غم غیروں سے کھلوایا نہیں کرتے
ہم اہل دل ہیں دستور وفا سے خوب واقف ہیں
تڑپ کر جان دے دیتے ہیں تڑپایا نہیں کرتے
یہ غم تو آرزوؤں کی حسیں سوغات ہے اے دل
تو پھر ہنگامہ ہائے غم سے گھبرایا نہیں کرتے
کسی کا راز درد دل چھپانا شرط الفت ہے
تو اس کو دیکھ کر محفل میں چھپ جایا نہیں کرتے
اسی بے درد کا غم حد سے جب بڑھ جائے ہے اے دل
تو شعر از خود چلے آتے ہیں ہم لایا نہیں کرتے
نہ کھل جائیں کہیں اسرار سربستہ سر محفل
ہم ان کی انجمن میں اس لئے جایا نہیں کرتے
شمیم آؤ تمہیں آداب گلشن ہم بتاتے ہیں
نکل کر برگ گل سے گل کو ٹھکرایا نہیں کرتے
سحرؔ کا دل ہے یہ بازیچۂ طفلاں نہیں پیارے
کھلونے سے تمناؤں کو بہلایا نہیں کرتے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






