کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتے

Poet: بدیع الزماں سحر By: مصدق رفیق, Karachi

کسی کا شیشۂ دل توڑ کر جایا نہیں کرتے
مکین دل مکاں کو اس طرح ڈھایا نہیں کرتے

تم اپنے آنسوؤں کو روک لیتے اپنی پلکوں پر
کسی کا راز غم غیروں سے کھلوایا نہیں کرتے

ہم اہل دل ہیں دستور وفا سے خوب واقف ہیں
تڑپ کر جان دے دیتے ہیں تڑپایا نہیں کرتے

یہ غم تو آرزوؤں کی حسیں سوغات ہے اے دل
تو پھر ہنگامہ ہائے غم سے گھبرایا نہیں کرتے

کسی کا راز درد دل چھپانا شرط الفت ہے
تو اس کو دیکھ کر محفل میں چھپ جایا نہیں کرتے

اسی بے درد کا غم حد سے جب بڑھ جائے ہے اے دل
تو شعر از خود چلے آتے ہیں ہم لایا نہیں کرتے

نہ کھل جائیں کہیں اسرار سربستہ سر محفل
ہم ان کی انجمن میں اس لئے جایا نہیں کرتے

شمیم آؤ تمہیں آداب گلشن ہم بتاتے ہیں
نکل کر برگ گل سے گل کو ٹھکرایا نہیں کرتے

سحرؔ کا دل ہے یہ بازیچۂ طفلاں نہیں پیارے
کھلونے سے تمناؤں کو بہلایا نہیں کرتے
 

Rate it:
Views: 409
24 Jun, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL