کھولے ہوئے گیسو ہو پریشان لگو ہو

Poet: بدیع الزماں سحر By: مصدق رفیق, Karachi

کھولے ہوئے گیسو ہو پریشان لگو ہو
اس دل کی طرح تم بھی مری جان لگو ہو

دلبر ہو دل آرا ہو دل آرام ہو پھر بھی
تم آفت جاں موت کا سامان لگو ہو

مسجود تمنا ہو کہ معبود محبت
بت خانۂ دل کا مرے ارمان لگو ہو

سجدوں سا تڑپ جاؤ ہو پیشانیٔ دل میں
کافر جو بنا دے ہے وہ ایمان لگو ہو

تصویر تغزل بھی ہو چہرہ بھی کتابی
آؤ نا پڑھیں تم مرا دیوان لگو ہو

پھر شہر تمنا میں کوئی خون ہوا ہے
یہ بات نئی ہے جو پشیمان لگو ہو

اس ذہن سے گزرے ہو سحرؔ یوں تو ہمیشہ
تم کون ہو بھولی ہوئی پہچان لگو ہو
 

Rate it:
Views: 359
24 Jun, 2025
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL