تری گود میں سررکھ کرسوناہےابھی
Poet: Humaira Hammad By: Humaira Hammad, Gujranwalaتری آنکھوں کیطرح نایاب ہونا ہے ابھی
تر ےہونٹوں کیطرح گلاب ہونا ہے ابھی
اےجان جگرپاس ذراا ور پاس تو بیٹھ
تری گود میں سررکھ کرسوناہےابھی
وصل کی گھڑی خوش ہونےدےمجھے
شب ہجرترےفراق میں رونا ہے ابھی
یہ دنیاکیاجانےمرےعشق کی معراج
مقا م صبرسے آ گا ہ یو نا ہےا بھی
مسجد میں پیتےرہے مے بیٹھکرجو
وقت فجربولےہمیں زاہد ہوناہے ابھی
سچ ہےاک عام سی لڑکی ہے حمیرا
ترا سا تھ ملے تو خاص ہونا ہے ابھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







