ترے آستاں پہ اب بھی مری خندہ یہ جبیں ہے مری
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتری آنکھ کے بھنور سے میں یہ سوچ کر ہی نکلی
"ترے میکدے میں ساقی وہ خمار اب نہیں ہے"
تری یاد کا وہ دریا ، مرے پیار کا سمندر
مری زندگی کہیں ہے ، تری زندگی کہیں ہے
میں نے مشکلوں سے سیکھا تری خواہشوں سے لڑنا
مری سوچ سے بھی بڑھ کر تری آرزو حسیں ہے
تری داستانِ الفت ، ہے یہ داستانِ عبرت
ترے پیار میں وفا کا یہاں راستہ حزیں ہے
تُو بھی اپنے اُس جہاں کے وہاں گیت گا لے وشمہ
یہاں میرے اِس چمن میں مری زندگی مکیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






