ترے دل سے اترتا جا رہا ہوں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالترے دل سے اترتا جا رہا ہوں
دمِ آخر میں بھرتا جا رہا ہوں
یہ میری زندگی ہے یا تری ہے
جسے برباد کرتا جا رہا ہوں
تمھیں کھو کر یوں لگتا ہے کہ جیسے
زمانے میں بکھرتا جا رہا ہوں
تری فرقت میں تنہائی کے ہاتھوں
میں اپنا خون کرتا جا رہا ہوں
کبھی اُس پر، کبھی کِس پر، کبھی کیا
مگر میں ہی کیوں مرتا جا رہا ہوں
پڑا ہے واسطہ تم سے تبھی سے
میں غم سے ہی بسرتا جا رہا ہوں
مری جاں، میرے دن کم رہ گئے ہیں
میں اب تجھ سے مکرتا جا رہا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






