ترے نقش دل سے مٹانے چلا ہوں
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: توقیر اعجاز دیپک, جھنگترے نقش دل سے مٹانے چلا ہوں
میں تقدیر پھر آزمانے چلا ہوں
جو تم نے لِکھے تھے محبت بھرے خط
وہ گنگا میں سارے بہانے چلا ہوں
میں غمگین رہ کے جلوں اور کتنا
میں خوش رہ کے اس کو جلانے چلا ہوں
نہیں کھیل بگڑے گا اب کوئی میرا
میں اب سارے حاسد بھگانے چلا ہوں
نیا خول چہرے پر اپنے چڑھا کے
میں لَیلیٰ کو مجنوں بنانے چلا ہوں
رقیبوں سے خود ہی کرے گا وہ نفرت
میں اک دام ایسا بِچھانے چلا ہوں
جلیں گے بھنیں گے مرے سارے دشمن
میں اِک آگ ایسی لگانے چلا ہوں
کسی اور کا اس کو ہونے نہ دوں گا
یہ پیمان اپنا نبھانے چلا ہوں
اسے دیکھتے ہیں جو میلی نظر سے
میں سر ان کے تن سے اڑانے چلا ہوں
اسے صرف اپنا بنا کر میں دیپک
جہاں بھر سے جھگڑا مٹانے چلا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






