ترے وصل کی شبنم میں بھیگے تو خبر کیا تھی
Poet: dr.zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanہر روز کا ملنا تھا ، ہنسنا تھا ہنسانا تھا
اس شوخ کی الفت کا اک وہ بھی زمانہ تھا
رت بیتی رفاقت کی ، اب ہجر کا موسم ہے
انجام پہ ہم روئے آغاز برا نہ تھا
ناکام رہی آخر ہر وقت کی دلد اری
ہم اپنا جسے سمجھے وہ شخص بیگانہ تھا
ترے وصل کی شبنم میں بھیگے تو خبر کیا تھی
ترے ہجر کے شعلوں میں ہمیں خود کو جلانا تھا
اک لمحے کو آیا اور پم دل کو لگا بیٹھے
اک جھونکا کہیں بھی تو جس کا نہ ٹھکانا تھا
کب داد کی حسرت تھی ، ہم نے جو غزل چھیڑی
شعروں میں محض اپنا احوال سنا نا تھا
اسے فکر تجارت تھی ، مشتاق سخن نہ تھا
سر درد تو محفل سے اٹھنے کا بہانہ تھا
امید مسیحائی ہم جس سے لگا بیٹھے
وہ زخم تو دیتا تھا زخموں کی دوا نہ تھا
جاتے ہوئے کہتے تھے اب یاد نہ تم کرنا
آسان کہاں زاہد انھیں دل سے بھلانا تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






