تسلی رکھ میرے اے دل
Poet: Saadat Satti By: Saadat Amin Satti, abudhabiمت رو میرے اے دل دنیا کو جلانے دو
کہیں مصیبتیں کاٹی ہیں اس کو بھی آنے دو
ہم تڑپتے ہیں تو خوش ہوتی ہے دنیا
تسلی رکھ اے دل انہیں تڑپانے دو
کہاں تک ظلم کریں گے ہم سے رقیب ہمارے
ابھی ان کی باری ہے ضرب لگانے دو
بھٹک نہ جانا ان سنگریزوں بھری راہ میں
ثابت قدم رہو اور انہیں گزر جانے دو
یہ وقت ہے حوصلے کا صبر کا سمجھداری کا
اک فیصلہ ہمارا ہو گا وہ وقت تو آنے دو
تڑپیں گے رقیب ان مےخانوں میں سعادت
چھلک اٹھیں گے جب یہ پیمانے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








