تسکین لحد کی خاطر میں تیری محبت ساتھ لے کے جائوں گا
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinتسکین لحد کی خاطر میں تیری محبت ساتھ لے کے جائوں گا
ﻣﺮﻭﮞ ﮔﺎ تو ﺗﯿﺮﯼ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺧﻂ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ کے ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ
تیری تاریک راتوں کا چراغ ہوں جلتا رہونگا یونہی
تجھے یہ ڈر کے بچھڑا تو رفاقت ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ کے ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ
میں صدیوں کی بھوک کو لمحوں میں بانٹ لونگا
میں جو بھوکے پیٹ سوتا ہوں یہ عادت ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ کے ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ
عذاب جہنم سے بڑھ کر بھی ایک سزا اور ہے جاناں
تیرے پہلو سے رخصت ہو کے اپنی عقوبت ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ کے ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ
تم احسن اداس نہ ہو وہاں اذیت ہجر نہیں ہوتی
میں وصل، ہجر، ربط و روابط ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ کے ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






