تصور کی دنیا
Poet: ایمان شہزاد By: ایمان شہزاد, Islamabadویسے جناب تصور کی دنیا بھی نا
بہت ہی پیاری ہے
تصور میں جو بھی دل چاہے
وہ خیال سوچ لیتی ہوں
انسانوں کی مطلب پرست
گفتگو سے بچ کر
کچھ دیر کو مجھے
پھولوں, پرندوں, تتلیوں
سے باتیں کرنا
رنگوں کے رقص میں رنگ جانا
دل کی بات دل سے کہنا
حسن پسندی کا اظہار کرنا
کسی کی ایک ادا کو سوچنا
بہت پسند ہے
کہ یہ دن بھر کی تھکان کو
راحت میں بدل دیتا ہے
بیرونی دنیا کے مسئلوں سے
چند منٹوں کی رہائی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






