تقاضہ محبت اور منتشر طبعیت
Poet: Shehzad Owaisi By: Shehzad Owaisi, Karachiبہت بیچین سی طبعیت ہے
یہی سوچ میں رہتا ہوں
کہ وہ کیوں منتشر ہے اتنی
جبکہ وہ تو خود مجھ کو
ایک مرکز پر لے آئی تھی
اور میں بہت سوچنے کے بعد
آج مکمل اُسکا ہونے جارہا ہوں
تو
وہ کتنی عجیب عجیب باتوں کو
درمیاں لاکر
مجھے بھی مضطرب و پریشان کر جاتی ہے
مگر
پھر بھی دل اُسکا بہت خوبصورت ہے
کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ
محبت کی طبعیت میں یہ کیسا
بچپنا قدرت نے رکھا ہے
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے
اسے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
تقاضہ محبت بھی یہی ہے
کہ
صرف درمیاں محبت ہو
باقی باتیں ثانوی ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






