تقدیس نسواں ہے مُحکم۔۔۔
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiجب جگ کی کسی بھی بستی میں تذلیلِ عورت ہوتی ہے
اُس وقت میری آنکھیں چھلکتی ہیں، اور خُود پہ نَدامت ہوتی ہے
میں ابن آدم ہوں بیشک، پر ابن حوّا بھی تو ہوں
بن آدم و حوّا کے یارو، کب انسان کی خلقت ہوتی ہے؟
تقدیسِ نسواں ہے مُحکم، توہین بھلا کیوں رشتوں کی؟
ماں، بہن، بیٹی، بیوی بن کر، عورت ہی تو عظمت ہوتی ہے
ہے سب سے مُقدس ماں کا رُوپ، اور بہن بھی ماں کا ہے پرتو
بیوی کے روپ میں تو عورت، تکمیلِ شرافت ہوتی ہے
اے جہل کے مارے تنگ نظرو، کیوں فہم و خرد سے دُور ہو تم
عورت سے کیوں وحشت کھاتے ہو؟ یہ سراپا مُحبت ہوتی ہے
اُس بحر و بر کے خالق نے، انسانوں میں فرق رکھا ہے ضرور
یہ فرق ہے باعثِ شناخت محض، کیوں تم کو عداوت ہوتی ہے
ماں کی عظمت کے بارے میں کیا خوب ہے یہ فرمانِ نبی
ماں کے مُقدّس قدموں تلے، بچوں کی جنّت ہوتی ہے
بتلایا ہے ہادیء برحق نے، بیٹی سے محبت جتلا کر
بیٹی کب باعثِ ننگ و شرم، یہ لائقِ عزّت ہوتی ہے
پُوچھا تھا کسی نے پیغمبر سے، عورت کا کیوں کر ثواب بڑھے؟
فرمایا “جو گھر کے کام کرے، وہ محوِ عبادت ہوتی ہے“
اللہ نے بار کِفالت کا، رکھا ہے یوں مرد کے کاندھوں پر
خاتونِ خوش خصلت سے ہی گھر بھر کی زینت ہوتی ہے
آزادیء نسواں کا دھوکہ، عورت کے حق پر ڈاکہ ہے
کب جنسِ بازاری کی یارو، کُچھ قدر و قیمت ہوتی ہے؟
یہ اہل مغرب بتلائیں، گر عورت کے ہیں مساوی حقوق
کیوں اُن کی نگری میں جا جا، اس حق سے بغاوت ہوتی ہے؟
سرور ہے حقیقت کہ عورت، ہر روُپ میں خیر و برکت ہے
عورت کو جو بُرا بناتی ہے، وہ مرد کی نیّت ہوتی ہے
(شعر نمبر سات، آٹھ اور نو میں بالترتیب فرمانِ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم، ہادیء برحق صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم پڑھا جائے)
ارے چین ایسا کہ ناراض کرے رب کو کیسی راحت
نگا ہ زن تیری راحت، بدن تیری محبت ہے
عجب پالے محبت تو عشق بس نام کی سنگت
عجب عورت تیری بول چاری دیکھی میں نے جگ بھر میں
وصال مرد اچھا نہ ، کر ے کیوں گفتگو الفت
وصال مرد زن گر ہے محبت تو سنو یہ پھر
ملے نہ گر بدن تو رکھے کیوں الفت کی جا نفرت
ہے قال تم فراق تم سے جائے جاں میری ہائے
پریشاں گر ہو محبوب دور نہ کرتے اس کی تم زحمت
محبت خاکؔ طیبؔ یہ پیش خدمت جاں ہو چاہ کے
پیش محبو ب سب کچھ تم کرو گر نہ، نہیں الفت
اُن کی راہوں میں دُعاؤں کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِن کے بَچوں کو دِیا نام، سَہارا، مَنزِل،
اَپنی قِسمَت کی بھی ہَم نے تو گِرانی رَکھ دِی ۔
ہَم دِیّارِ غَیر میں تَنہا ہی لَڑتے رَہ گئے،
اور اُنہوں نے فَقط مَطلَب کی کَہانی رَکھ دِی ۔
گھر بَنایا تھا جِسے سَایۂ اِخلاص سَمجھ،
وَقت آیا تو اُسی گھر نے وِیرانی رَکھ دِی ۔
دَرد اِتنا ہے کہ اَب شِکوَہ بھی مُشکِل لَگتا،
زِندگی نے لَبِ اِظہار پہ پانی رَکھ دِی ۔
مَظہرؔ اِحسان کا بَدلہ نہ سَہی، یاد ہی رَکھ،
کُچھ تو رِشتوں نے وَفادارِی کی نِشانی رَکھ دِی ۔
جِنہیں اَپنا سَمجھا، وُہی یہ کَہہ کے ہَنس دِیے،
حاجی صَاب لُوسدِیاں رَہنا اِیں
بَس اِتنی مِہربانی رَکھ دِی
جو قوم کی خاطر بولا تھا، زِندان میں بیٹھا ہے۔
جس شَخص نے خواب دِکھائے تھے اِک بہتر پاکستان کے،
وہ شَخصِ وَفا آج بھی بے سامان میں بیٹھا ہے۔
جس نے ہر ظُلم کے آگے حَق بات سُنائی لوگوں کو،
وہ اَپنی ہی قوم کے بیچ حَیران میں بیٹھا ہے۔
اِک آنکھ بھی اُس کی جاتی رَہی اِس راہِ سیاسَت میں،
اور شہرِ تمَاشہ خاموشی کی تان میں بیٹھا ہے۔
لوگوں نے فَقط نعروں تک مَحدُود رَکھی چاہت کو،
اِک مَردِ مُجاہد اَب تک زِندان میں بیٹھا ہے۔
گر ایک دَفعہ بھی قوم اُٹھے، دِیواریں ہِل سَکتی ہیں،
وَرنہ ہر خواب یَہاں خوف کے طُوفان میں بیٹھا ہے۔
کتنی ہی عِیدیں گُزر گئیں اُس شَخص پہ تَنہائی میں،
اور ہر بے حِس چہرہ اَپنے ہی اَرمان میں بیٹھا ہے۔
مظہرؔ یہ قِیادت بکنے والی شے تو نہیں ہوتی،
اِک سَچّا لِیڈر آج بھی زِندان میں بیٹھا ہے۔
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا






