تمام رات مجھے لوریاں سناتی ہے
Poet: عین رحمٰن By: عین رحمٰن, ایبٹ آبادتمام رات مجھے لوریاں سناتی ہے
تمہاری یاد جو پہلو میں لیٹ جاتی ہے
وصال کی تو نوازش کبھی نہ ہم پہ ہوئی
مگر صبا، ترے کوچے سے جب بھی آتی ہے
تری مہک، تری خوشبو، تری ھنسی کی کھنک
عجب ، لطیف خزینے سمیٹ لاتی ہے
کہاں جناب، کہاں ہم، مگر طلب اکثر
کشاں کشاں تری راہوں میں کھینچ لاتی ہے
عناہت آپکا شیوہ نہیں رہا ہے کبھی
حیات ڈھل گئی امید اب بھی باقی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






