تمام عمر مجھےایک اضطراب رہا
Poet: Dr. Khurshid Ahmed Bazmi By: Dr. Khurshid Ahmed Bazmi, Brampton UKتمام عمر مجھےایک اضطراب رہا
تری وفا مری امید کا سراب رہا
تمہارے نام جو کر دی تھی زندگی اپنی
یہ ایک جرم مری روح کا عذاب رہا
گزرتے وقت نے کملا دیا یہ حسن ترا
نہ تو رہا نہ ترا ایسا وہ شباب رہا
ترے بغیر سلگتی سیاہ راتوں میں
تراخیال مرےرتجگوں کا خواب رہا
یہ کیسے موڑ پہ لے آئی زندگی اپنی
بنا وہ راہ کا پتھر جو کل گلاب رہا
اٹھا رہا ہے جو پردہ مرے گناہوں سے
وہ پارسا بھی کبھی اپنا ہم رکاب رہا
شکایتِ غمِ دوراں تو اک بہانہ تھا
مرا چلن ہی بہت ابتر و خراب رہا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






