تمنائے دِل جیون میں وہ مقام ائے
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreتمنائے دِل جیون میں وہ مقام آئے
پھولوں سے کبھی وقتِ ہم کلام آئے
پُر نور چاند بنے کبھی میرا بھی ہمسفر
کسی روز ستاروں کا میرے گھر قیام آئے
ہو بے چینی سی پورے عالم پہ چھائی
میری محبت سے مِلنے ہر شام آئے
ہو جائے اپنی ذات سے ہی ملاقات
دیوانگی میں کوئی تو شے کام آئے
جو ہو وہ میری یادوں مضطرب
پریم باتوں سے بھرپور حسیں سلام آئے
خوفِ خُدا ہو مگر خوفِ دُنیا نہ ہو
دیر آئے دُرست آئے‘ آئے تو سرِ عام آئے
زندگی گزرے تو محبت کے نام پہ گزرے
موت پہ آئے تو محبت کا نام آئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






