تمنا
Poet: By: Naila Rani, Lahoreپھر سے ملنے کی تمنا پھر سے دھڑکا یہ پاگل دل
اسکا وہ خاموش لہجہ اور میرا سمٹا ہوا باسل دل
پھر سے وہی آہٹ پھر سے سہما ہوا ہے کوئ بادل
اسکی وہ۔۔۔!!! جان سے جانے کی ادا ہے اے عادل
کہ میرے گھر میں چھپا ہوا ہے۔۔ارے واہ۔۔ ۔عارض
میں تھا کب غائب تیری دریدہ دلی سے او جاہل
ما یوس ہوا سوچ کر کہ تو بھی نکلا فقط و عابد
آہ تیرے لب سے جو نکلی دعا میرے لئیے اے ظالم
شائد کہ اتر رہی ہے اک رقت سی اے جان من
اک پیام سحر نے روک لیا ہے مجھکو آج ارے کافر
ورنہ پھر سے ملنے کی تمنا پھر سے دھڑکا یہ دل
پھر سے وہی سر گوشیاں آہ اسکی محبت کاعالم
پھر سے ملنے کی تمنا پھر سے دھڑکا یہ پاگل دل
جانے کیاہوگا۔۔نجانے کیوں ہوا آوارہ یہ جاہل دل
پھر سے ملنے کی تمنا اور دل سے اترا ہوا عاشق
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






