تمھاری تصویر دیکھ کر ............
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiیہ آنکھیں اور یہ چہرہ
سویرے کی فضا جیسے
وضو زم زم سے کرکے آئی ہو کوئی شعاع جیسے
کُھلا جنت کا دروازہ
سکونِ دائمی کی ہورہی ہو ابتدا جیسے
مجسم ہو حیا جیسے
کسی دیوی کے بُت میں زندگی یکلخت کروٹ لے
وہ کربِ عشق میں ہوجائے یک دم مبتلا جیسے
محبت ضبط کے زنداں میں روتی اور سسکتی ہو
کمالِ ضبط، سوزِ عشق سے زورآزما جیسے
غضب معصومیت، کردار جیسے ہو فرشتوں کا
عجب پاکیزگی، ہو چاندنی میں موتیا جیسے
ہے پیشانی، کہ وقتِ فجر ہو محراب مسجد کی
یہ آنکھیں، راہ جنت کی دکھاتا ہو دیا جیسے
بچھی صحن حرم کی دھوپ رخساروں پہ اتری ہے
لبوں کا ذکر کیا کیجے، عبادت میں دعا جیسے
تقدس چشم وچہرے کا اتر آیا ہے لفظوں میں
سخن پارہ یہ میرا ہوگیا حمدوثناء جیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






