تمھیں بہار کی کلیاں جواں پکارتی ہیں
Poet: عامر ثقلین By: عامر ثقلین , Arifwalaتمھیں بہار کی کلیاں جواں پکارتی ہیں
کہتی مرحبا! سب تتلیاں پکارتی ہیں
نہ بوسہ پیار کا عنبر فشاں لبوں سے لو
یہ میری سانسوں کی خاموشیاں پکارتی ہیں
حسین راتیں ہیں دیدار کو بنیں تیرے
قمر، نجوم کی کرنیں رواں پکارتی ہیں
نہ آنا سامنے شیشے کے ہو کے تم ملبوس
لٹکتی زلف کی یہ کنڈلیاں پکارتی ہیں
زمین و چرخ بہت گرم جوشی میں ہیں آج
گھٹاؤں سے نکلتی بجلیاں پکارتی ہیں
پسند آئیں ہیں منہدی کو اِس قدر، ضد سے
نہیں ہیں چھوڑنی، تلیاں اے جاں! پکارتی ہیں
مراجعت تری اک پل کو بھی گوارا نہیں
یہ نیلی فام سی پریاں یہاں پکارتی ہیں
تری نگاہ کے ساحل پہ ہے ٹھہرتا دل
یہ بحرِ عشق کی سب کشتیاں پکارتی ہیں
سکون کا ہے ذریعہ تمھاری خاکِ قدم
گُلِ گلاب کی سب پتّیاں پکارتی ہیں
خفا نہ ہو کے جا عامؔر سے میرے پیارے دوست
تمام شہر کی گلیاں نہاں پکارتی ہیں
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina






