تمہاری آگہی دنیا کی دے خبر جو ندیم (غزل)
Poet: ندیم مراد N A D E E M M U R A D By: ندیم مراد N A D E E M M U R A D, UMTATA SOUTH AFRICAہمیں ہیں بادہ کشانِ شرابِ آگاہی
نہیں ہے سہل مری جان تابِ آگاہی
لٹانا پڑتی ہے سارے جہاں کی نایابی
گراں بہت ہے اٹھانا نقابِ آگاہی
سکوں کے واسطے عرفاں کی جستجو کیا ہے
کسے خبر کہ ہے کیا اضطرابِ آگاہی
جنوں میں حد سے گزر جانا چاہے عشق مرا
سکھاتی ہوگی یہ اس کو کتابِ آگاہی
طلب تمہاری ہے ورنہ تمہارے در میں ہے کیا
پڑے ہیں ہم کہ یہی ہے نصابِ آگاہی
تمہاری آگہی دنیا کی دے خبر جو ندیم
تو طے ہے یہ کہ ہے تم کو سرابِ آگاہی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






