تمہاری بولتی آنکھیں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillہزاروں راز کہتی ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
بہت بیتاب کرتی ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
وہاں یخ بستگی کو پھر کوئی لمحہ نہیں ملتا
جہاں پر جا ٹھہرتی ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
تمنا کے جزیروں میں کہاں پھر تیرگی باقی
اجالوں سا چمکتی ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
وہاں الفاظ کا جادو پریشاں حال دیکھا ہے
کچھ ایسے شعر کہتی ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
سمے کے درد ۔ وحشت کے بکھیڑے ۔ زندگی کے دکھ
مجھے سب کچھ بھلاتی ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
اترتی ہیں تجلی لینے ان پر چاند کی کرنیں
شہد میں رس ملاتی ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
چھپا رکھے شاید ان میں ہی سب بھید فطرت نے
سمندر سے بھی گہری ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
انہیں کاجل کی حاجت کیا انہیں کیا آئینہ درکار
محبت سے نکھرتی ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
نشہ سا لگ گیا دل کو ان مخممور لمحوں کا
بہت بجلی گراتی ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
انہیں آتا ہے ذہنوں میں سہانی خوشبوئیں بھرنا
تخیل کو جگاتی ہیں تمہاری بولتی آنکھیں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






