تمہاری چاہت میں کچھ کلام ہوجائے
Poet: سیف الرحمن برقٓ By: saifurrahman, Chiniotاس سے پہلے کہ یہ دن شام ہوجائے
تمہاری چاہت میں کچھ کلام ہوجائے
اس سےپہلے کہ تشنگی حد سے بڑھے
تمہارے ہونٹوں سے نوش جام ہوجائے
اس سےپہلےکہ اٹھے آزادی کی صدا
تمہاری زلفوں کا اسیر، غلام ہوجائے
اس سےپہلے کہ لگےکسی حاسدکی نظر
تمہاری آنکھوں کا صدقہ مدام ہو جائے
اس سےپہلے کہ بےقابوہو تمنائے وصال
میرا گھرتیری خوشیوں کامقام ہوجائے
اس سےپہلے کہ قوتیں دےدیں جواب
اک چھوٹی بِسمہ اور اک بسام ہوجائے
اس سےپہلےکہ محبت ہوغیر سےبدنام
وفا کے قصوں میں ہمارا نام ہوجائے
اس سےپہلےکہ مرادل دھڑکناچھوڑے
تمہاری بانہوں میں برق تمام ہوجائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






