تمہاری یاد آتی ہے کہاں سے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتمہاری یاد آتی ہے کہاں سے
کہ جیسے روح کا آتش فشاں سے
ہزاروں جستجوؤں کے جلو میں
منازل کا ہر اک رستہ وہاں سے
تھی بے معنی یہ میری زندگانی
ذرا دیکھوں تو وہ مجھ پہ عیاں سے
ہماری بے قراری کے موافق
اگر بن جائے خود طوفاں یہاں سے
عجب سی دل کو راحت دے گیا وہ
کہاں ہو تم کہ ہر جذبہ زباں سے
ابھر آتا ہے دل میں درد میرا
یہ سنتے تھے کہ سینے میں وہ جاں سے
کئی سے ڈھونڈ لا تقدیرمیری
مگر دل کا وہی فتوی بیاں سے
ابھی الجھی ہوئی تعبیر یں ہے
حقیقت یہ کہ ہر لمحہ یہاں سے
مرے اشعار کے زینے پہ پھر دیکھ
تصوف کے مضامیں وہ بیاں سے
تمہاری ذات اے وشمہ وفا کی
کوئی ان سا بڑا کوئی جہاں سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






