تمہاری یاد کا سایہ
Poet: Haider Ali By: Haider Ali, karachiتمہاری یاد کا سایہ ہے میرے ذہن پہ اب
کہ میرے دل کی تمنّا ہے تُجھے پا،لوں اب
تمہیں ہی سوچتا رہتا ہوں اب ہر لحظہ میں
ہے تیرے پیار کی شدّت میرے سینے میں اب
کبھی نہ سوچا تھا ،یوں تُم میرے ہو جاؤ گے
تُمہارا مِلنا مُقدّر مُجھے لگتا ہے اب
میری پاکیزہ محبت مداوا ہے تیرا
غموں کی دھوپ ہٹے گی تیرے چمن سے اب
تیرا چمن رہے گا شادباد ہر لمحہ
یہ ہے دعائے علی تیرے لیئے ہر دم اب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






