تمہارے بعد
Poet: Hafeez Javed By: Shazia Hafeez, Attockکیا بتائیں کون سنے گا، جو حال تمہارے بعد ہوا
کچھ بھول گئے کچھ یاد رہا، جو حال تمہارے بعد ہوا
سب کو دل سے نکالا تھا، اک شخص اس میں آباد ہوا
میری حالت پہ سب افسردہ تھے، وہی اس پہ شاد ہوا
وہ شخص کتابوں جیسا تھا، سبق کی طرح یاد ہوا
قرآن کی طرح سنبھالا تھا، پر ردی کی طرح برباد ہوا
اسکا نام بھی اب یاد نہیں، جو خوشبو کی طرح آباد ہوا
جاوید دل کا کیا ، تھوڑا شاد ہوا بہت ناشاد ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






