تمہارے لفظ جو بامِ زبان سے اتریں
Poet: rehan abbas By: rehan , lahoreزار درد سہے دل نے راحتوں سے قبل
کہ ہو کہ آیا ہوں دوزخ سے جنتوں سے قبل
تمہارے لفظ جو بامِ زبان سے اتریں
میں بڑھ کے تھام لوں ان کو سماعتوں سے قبل
یہ کیسا حالِ تمنا یہ کیسا دورِ جنوں
وہ خود کو ہار گیا میری خواہشوں سے قبل
کوئی بتائے بھلا ایسے بھی کہں ہوتا ہے
کہ جاں نثار کرے کوئی چاہتوں سے قبل
مرے علاوہ بتا کون تجھ کو سمجھے گا
میں بوجھ لیتا ہوں تجھ کو وضاحتوں سے قبل
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






