تمہارے نام کا سکہ اچھال سکتا ہوں
Poet: عظیم By: عظیم, Bahawalpurتمہارے نام کا سکہ اچھال سکتا ہوں
تمہیں سلیقے سے میں دیکھ بھال سکتا ہوں
ابھی تو صرف بگاڑا ہے تیری عادت کو
میں تجھ کو خود میں ابھی اور ڈھال سکتا ہوں
جو تیری ذات سے مجھ کو ملے ہیں اے جاناں
میں ان غموں کو کلیجہ میں پال سکتا ہوں
مرے خدا کی خدائی اگر نواز دے تو
سمندروں میں بھی رستا نکال سکتا ہوں
میں اپنے عہد کا جگنو ہوں دیکھنا اک دن
بڑے بڑوں کو میں حیرت میں ڈال سکتا ہوں
اگر ملے جو غم روزگار سے فرصت
تو میں بھی ذہن کا دریا کھنگال سکتا ہوں
پڑے گی دھوپ جو تم پر تو ابر بن کر کے
تمہارے سر سے میں سورج کو ٹال سکتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






