تمہیں بھی دل نے تڑپایا تو ہو گا
Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahoreتمہیں بھی دل نے تڑپایا تو ہو ۔۔۔۔۔گا
کلیجہ منہ تلک آیا تو ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔گا
سبب ہو گا کوئی قوسِ قزح۔۔۔۔۔۔۔ کا
وہ آنچل آج لہرایا تو ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔گا
رہے گا اوج پر کب تک ۔۔۔۔یہ سورج
منڈیروں پر کبھی سایہ تو ہو۔۔۔۔۔۔ گا
جلاتی ہے بدن کو چاندنی ۔۔۔۔۔۔۔بھی
یہ دل والوں نے جتلایا تو ہو۔۔ ۔۔۔گا
محبّت میں ملا کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔جنّت
یہ دھوکہ اُس نے بھی کھایا تو۔۔۔۔ ہو گا
بُرا ہے عشق کا انجام ۔۔۔۔۔۔اے دل
خردمندوں نےسمجھایا تو۔۔۔۔۔ ہوگا
غبارِ راہ نے بڑھ کر ۔۔۔۔۔۔۔جنوںکا
تمہیں آئینہ دکھلایا تو ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔گا
سنا جب ہو گا اُس نے۔۔۔۔۔۔حال میرا
کئے پہ اپنی پچھتایا تو ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گا
سنے جب ہوں گے اُس نے شعر میرے
وہ دل ہی دل میں شرمایا تو ہو ۔۔۔۔۔۔گا
صبا کے بھیگتے دامن نے ۔۔۔۔۔۔۔میرا
تمہیں پیغام پہنچایا تو ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گا
اُفق میں ڈوبتے تاروں نے ۔۔۔۔جاناں
میرا کچھ حال بتلایا تو ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گا
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






