تمہیں دیکھ کر لگتا ہے ایسے
Poet: درخشندہ By: درخشندہ, Hustonتمہیں دیکھ کر لگتا ہے ایسے
ایک ہی چمن کے دو پھول جیسے
پون کے سنگ وہ اپنے جھولے
یوں گلے مل رہے تھے ہم جیسے
تمہیں دیکھ کر لگتا ہے ایسے
آنگن میں ساتھ کھیلے ہم حیسے
کبھی میں نے کبھی تم نے
چھو لیا ہو ایک دوجے کو جیسے
اک دوجے کی چاہ میں کبھی
ہنس د یۓ کبھی رو د یۓ حیسے
سانجھے مانجھے کے یہ رشتے
ایسے کے تم لگے اپنے حیسے
پھر جانے ہم یوں بچھڑے کیسے
پھر ملے تو لگا جدا ہوے نہ جیسے
پر مل کر بھی ہم ملے نہ کبھی
ہوتا یوں سنگم روحوں کا حیسے
اس رشتے کو نام ہم کیا دیں
نہ ہو کر بھی یہ اک رشتہ جیسے
نہ ہوے ہم فرشتے نہ تم فرشتے
پھر ہوے ہم دو دیوانے جیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






