تمہیں محبت ہوئی کسی سے
Poet: Abdul Waheed(Muskan) By: Abdul Waheed(Muskan), Haripurہمارے دل نے
تمہیں بھلانے کی ٹھان لی ہے
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے تمہیں بھلا دیں
ہماری پلکوں کی چلمنوں میں تمہارا چہرہ چُُُُُھپا ہے
تمہیں جو دیکھا
ہماری دھڑکن کے تار باجے
کھنن کھنن چُُُُوڑیاں پُُُُکاریں
چھنن چھنن پائلوں نے چھیڑا، فضائیں جھومیں
ہتھیلیوں کو حنا نے چوما تو چومتی ہی چلی گئی
یہ زُُُلف گیندے کی خوشبوؤں میں رچی بسی ہے
تمہیں جو دیکھا
ہوا نے سرگوشیوں میں پوچھا
ہو کھوئی کھوئی سی تم کس لیئے
گلاب جیسا تمہارا چہرہ کیا ہے کس نے
یہ تھرتھراتے سے ہونٹ کیسے ہوئے گلابی
تمہارے ماتھے پہ اوس چمکی ہے کیوں اچانک
تمہارے دل کی دھڑک دھڑک میں
کسی کے ہاتھوں کی دستکوں کی ہے تھاپ شامل
یہ بات بہ بات چونک اُُُُُٹھتی ہو کِِِِس لئے تم
سنو،ستاروں سے تم کو باتوں کی خُُُُُُو پڑی ہے بتاؤ کب سے
یہ کب سے تم نے دیے دَََریچے پہ رکھ کے جگنے کی ٹھان لی ہے
سنو سہیلی چھپا رہی ہو
تجھے سوچنا چھوڑ رکھا ہے ہم نے
تجھے سوچنا چھوڑ رکھا ہے ہم نے
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






