تمہیں ملنے کو ترستے ہیں
Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAMمیری آنکھوں سے گر آنسو برستے ہیں برسنےدو
تمہیں کیا گر یہ ملنے کو ترستے ہیں ترسنے دو
میرے دل سے تم کو بیرکیوں ہے یہ تو بتلا دو
بلا سے میرے دل کے زخم رستے ہیں رسنے دو
علاج زخم دل تم کو ہی کرنا ہے چلے آؤ
ستم کے تیر گر ہم پر برستے ہیں برسنے دو
ہمارے حوصلے دیکھو اسیری میں بھی ہنستے ہیں
بچھاؤ جال تم اپنے جو ہم پھنستے ہیں پھنسنے دو
وفا شیوہ ہمارا ہےوفا ہم کرتے رہتے ہیں
ہمارے حال پر گر لوگ ہنستے ہیں ہنسنے دو
محبت کی عدالت میں ہماری پیشی کیا ہو گی
ہمارے نام کے پرچےگر کٹتے ہیں کٹنے دو
تم کو ہی چاہ ہے فقط تم کوئی چاہیں گے
جو لوگ ہماری محبت سے جلتے ہیں جلنے دو
تیری فرقت نے دیوانہ بنا ڈالا ہے اصغر کو
یہ دن ناگ بن بن کر ڈستے ہیں ڈسنے دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







