تمہیں چھپ چھپ کے تکنے کا مزہ کچھ اور ہی ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillخاک چھانی ہے میری سوچ نے جہانوں کی
تیری راہ میں بکھرنے کا مزہ کچھ اور ہی ہے
یوں تو ہر ورق ہے یکتا کتاب ہستی کا
تیرے الفاظ پڑھنے کا مزہ کچھ اور ہی ہے
ہزاروں پھول نگاہوں کو بھلے لگتے ہیں
تمہیں چھپ چھپ کے تکنے کا مزہ کچھ اور ہی ہے
تمہیں ہر وقت کھوجتی ہیں میری آرزوئیں
تیرے سانچے میں ڈھلنے کا مزہ کچھ اور ہی ہے
راستے وجد کی حالت میں رقص کرتے ہیں
تمہارے ساتھ چلنے کا مزہ کچھ اور ہی ہے
خواب سے دلنشیں لمحے آغوش میں لے کر
چاند تارے پکڑنے کا مزہ کچھ اور ہی ہے
تیرے ہاتھوں کی بولتی ہوئی لکیروں میں
حنا کے رنگ بھرنے کا مزہ کچھ اور ہی ہے
وصال و ہجر کے سارے فسانے اپنی جگہ
بچھڑ کر پھر سے ملنے کا مزہ کچھ اور ہی ہے
تمہاری جھیل سی آنکھوں کا عجب مستی میں
اٹھ کے فی الفور جھکنے کا مزہ کچھ اور ہی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






