تم بس تم یاد آتے ہو
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAمیٹھی بولی
جب کوئی بولتا ہے
سریلی آواز
جب سنتا ہوں
آواز کی کھنک
جب لوری دیتی ہے
ہونٹوں کی جنبش
جب لرزتی ہے
دھیمی آہٹ
جب سنائی دیتی ہے
پھولوں کے موسم میں
بہار کی رعنائی میں
خزاں کے
اُجاڑ پن میں
شب کے اندھیرے میں
دن کے اُجالے میں
آنکھوں کے تیر
جب دل سے گزرتے ہیں
دماغ جب
شائیں شائیں کرتا ہے
دل جب
دھک دھک کرتا ہے
کوئی اور نہیں
تم بس تم یاد آتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







