تم بھی دوسری منزل کو چلو اور رُک جائیں قدم
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiتم بھی دوسری منزل کو چلو اور رُک جائیں قدم
ایسا بھی کہاں مقدر کہ لوٹتے کو مل جائیں ہم
رسم الخط میں کہیں قلم بہک جاتے ہیں
بکھرے اِن خیالوں میں وہ کہاں الباب ہے
کپکپاتے ہاتھ کو شاید کبھی نہ بھول پائیں ہم
کوئی تنہائیوں کے بدن ٹوٹ کے بکھرے اور
وہ سحراؤں سے بچھڑ کر آئی برسات ہے
ایسی بھی ملاقات کو شاید کبھی نہ بھول پائیں ہم
آج بھی فلک پہ نکھرا وہی چاند تھا
مگر اِس چاندنی میں تو کہاں ساتھ ہے
اور تیری یاد کو شاید کبھی نہ بھول پائیں ہم
تم کتنی کروٹیں بدلو یا کتنی نیندیں جاگو
مگر جو خواب میں ہے سنتوشؔ وہ خواب ہے
اسی ہی خواب کو شاید کبھی نہ بھول پائیں ہم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






