تم راز اگر ہوتے
Poet: Amjad Islam Amjad By: *Rizwana Khan*, ***Karachi***تم راز اگر ہوتے میں دل میں چھپا لیتی
مسکائی ہوئی آنکھیں اعلان نہ بن جائیں
جب نام تیرا آتا پلکوں کو جھکا لیتی
تم میری امیدوں کی کشتی کے لئے ساحل
منزل کے لئے رستہ،آنکھوں کے لئے کاجل
تم دھوپ میں جب آتے،بن جاتی وہیں بادل
آواز اگر ہوتے گیتوں میں سجا لیتی
تم راز اگر ہوتے میں دل میں چھپا لیتی
تم میری طرف چل کر جس راہ سے بھی آتے
ہر سمت میری آنکھیں قدموں کے تلے پاتے
اک میٹھی ہنسی ہنس کر سو پھول کھلا جاتے
یہ پھول اٹھا لیتی،رنگوں میں چھپا لیتی
تم راز اگر ہوتے میں دل میں چھپا لیتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






