تم سے ملنے کا کوئی رستہ کوئی دریچہ
Poet: حیات دیجہ By: Umar Hayat, Lahoreتمہارا کہنا کہ تم سے ملنے کا
کوئی رستہ کوئی دریچہ کوئی وسیلہ
کوئی بہانہ بھی مت بنانا
تمہارے کہنے میں آ کے میں نے
محبتوں کو دبا کے دیکھا
کہ اپنے دل کو رلا کے دیکھا
مجھے خبر ہے تمہیں پتہ ہے
محال ٹھرا تمہارا ملنا
مگر تمنا کے پھول کھلنے میں کیا غلط ہے
تمہی بتاؤ نا دور بیٹھی یوں مسکراؤ
کہ تم سے ملنے میں کیا غلط ہے
تمہاری باتیں ہوا سے کرنے میں کیا غلط ہے
تمہارا چہرہ تمہاری آنکھیں مجھے جو بھائیں تو کیا غلط ہے
کھرچ بھی دوں گر تمہاری یادیں کیا تیرا چہرہ بھلا سکوں گا
اگر ابھی بھی یہی ہے کہنا کہ تم سے ملنے کا کوئی رستہ کوئی دریچہ کوئی وسیلہ
کوئی بہانہ بھی نہ بنانا
تو مجھ کو کہنا ہے صرف اتنا
کہ حق میرے دعایہ کرنا
کہ زندگی کی طویل راہ میں
حیات باقی کی ہر گھڑی میں
اجاڑ رستے چلا نہ جاؤں
کہ یاد رکھوں تجھے تو ہر پل
مگر میں خود کو نہ یاد آؤں۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






